دیسی اطوار اور پردیسی چال کا اصل فن

پردیسی بننے کا کس میڈل کلاسیے کو شوق نہیں ہوتا…بچپن سے دل میں بسنے والا یہ خواب اگر اپنی تعبیر پانے کے مراحل تہہ کر لے تو یوں لگتا ہے جیسے اس دنیا میں سرخروح ہو گئے ہیں. رشتے داروں اور دوستوں کی جلن دیکھتی ہے تو آپ اور بھی پھولے نہ سماتے ہیں. اور تو اور پردیس جاتے وقت تو آپ کو جہاز پر چڑھنے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کے آپ امیگریشن لائن کے ضابطہ کار کو ایک سائیڈ پر رکھ کر عورتوں اور بوڑھوں کے لئے مخصوص کی گیئ قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں.

خیر جب آپ اپنی خوابوں کی دنیا میں پہلا قدم رکھ چکتے ہیں تو یہ سب باتیں آپ کے بچگانہ ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں. اب آپ فرنگیوں کی زمین پر چلتے پھرتے اپنے ملک کواور ادھر بسنے والے نیک نمازیوں کو یاد کرتے تھکتے نہیں. آپ باہر کے ملک جا کر نوٹ کرتے ہیں کے آ پ کے اندر کی پاکستانیت کم نہیں بلکہ کیئں گنا زیادہ ہو گیئ ہے…اپنے ملک سے محبّت کا ثبوت دینے کی خواہش ہر روز زور پکڑتی جاتی ہے…حتہ کے آپ پاکستانیت کے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں آپ میں اور پاکستان میں فرک کرنا مشکل ہو جاتا ہے.

باہر کا ملک …آپ کے خوابوں کی دنیا….اخلاق کمزور ہونے کی صورت میں آپ کے ایمان لئے ایک امتحان گاہ بھی بن سکتی ہے . منی سکرٹس میں چلتی ننگی ٹانگوں والی لڑکیاں، گراسری اسٹورز میں لگی شراب کی بوتلوں کی قطاریں، سور کی ہڈی سے بنی جیلی، اور ہیم ساسیج جیسی حرام چیزوں سے بھری باہر کے ملک کی دنیا اپ کے ذرا سے قدم پسلنے پر جہنم کی آگ کی نوید بن سکتی ہی. چناچے احتیاط لازمی شرط ہے!

احتیاط کے چند طریقے تمام ان امیدواروں کی خدمت میں حاضر کیے دیتی ہوں جو دن رات فرنگی قوموں کے دیس میں اپنا مستقبل تلاش کرتے ہیں.

اپنے ملک سے محبّت کا پہلا اصول تو یہ ہے کہ باہر جا کر اگر کوئی بھی گورا آپ کو پاکستان کی برائی کرتے ملے …تو اس کو فوراً امریکہ اور اسرئیل کی صدیوں سے جاری جارحیت کے بارے میں بتایں. اگر کوئی ہندوستانی ملے تو اس کے نمستے کا جواب “وسلام ” دے کر کریں…اگر وہ پھر بھی باز نہ آے تو اسے گاندھی کے اصّل چہرے سے روشناش کرائیں تاکہ ان سب کو معلوم ہو جائے کے پاکستان کو توڑنا اتنی آسان بات نہیں…اور ہمارے ملک میں غیرت مند محب وطن لوگ رہتے ہیں.

اپنی دوستی ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود رکھیں. سٹرکلی سپیکنگ ، صرف مسلمان طبقے سے سلام دعا بڑھاییں. اگرچہ عرب لوگ آپ جیسے نیم کالے ساؤتھ اشین سے بات کرنا پسند نہیں کرتے لیکن آپ کو اپنی مسلمانیت دکھانے میں ذرا ہتک محسوس نہیں ہونی چایے چناچہ اگر کوئی عربی آپ کو ملے تو اس کی طرف دوستی کا ہاتھ ضرور بڑھاییں…ہو سکے تو چند ماہ بعد آنے والی عید کی مبارک باد بھی اسی وقت دے دیں. فی امان الله کہنے سے پہلے اپنے غریب خانے پرکھانے کے لیے مدعو کرنا نہ بھولیں.

لڑکوں کے لئے خاص طور پر احتیاط برتنا ضروری ہے. اپنے دیس میں تو لڑکیاں تاڑنے میں کوئی خاص مشقت نہیں لگتی تھی. لیکن ادھر ٹرام میں سامنے بیٹھی گوری کو دیکھنے کے لئے ایک خاص قسم کا آرٹ درکار ہے. ورنہ آپ حراسمنٹ کے کیس میں جیل بھی جا سکتے ہیں. میں چونکے خود ایک لڑکی ہوں تو شاید میں اس آرٹ پر زیادہ روشنی نہ ڈال سکوں…بس اتنا بتاے دیتی ہوں کے ادھر تاڑتے وقت آپ کی آنکھوں کے انگارے دوسروں کو نظر نہیں آنے چاہییں. البتہ یہ اصول اپ صرف گوریوں کے لئے ہی رکھیں، دیسی مال دیکھتے ہی آپ اپنی اصل فطرت پر واپس سوئچ ہو سکتے ہیں.

باہر کے ملک میں مجھے اسلام کا بول بلا دیکھ کر بہت مسرت بھی ہوئی اور حیرانی بھی، حیرانی کی وجہ تو یہ تھی کے ہم نے اپنے ملک میں فرنگی دنیا کے بارے میں بہت سی باتیں سنی تھیں. جیسے کے فرنگ لوگ اسلام کے پھلنے سے بہت خوف کھاتے ہیں اور اپنے بچوں کو ہالووین پر مولوی کے کاسٹیوم پہن کر ڈراتے ہیں، لیکن میں نے اس قسّم کا کی کوئی حرکت فرنگی کو کرتے نہی دیکھا. سچ تو یہ ہی کے آج کا نوجوان فرنگی اب اصل معنوں میں مسیحی نہی رہا. اس کو چرچ کی گھنٹیوں میں سکون دستیاب نہیں. اس کے اندر اپنے رب کی تلاش کا سفر زور پکڑ چکا ہے. فرنگ نوجوان کے اسی اندرونی روحانی انقلاب کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی کے پہلے دن تو میں نے کیفیٹیریا میں نماز کا اہتمام بھی کیا….ایسا کرنے سے مجھے دو فائدے ہوے…. ایک تو یہ کے گورے لوگوں کو ایک نماز پڑھتی مسلمہ دیکھنے کا پر روح منظر دیکھنے کو ملے …اور ساتھ ہی ساتھ ان میں اسلام کے بارے میں ایک مثبت قسّم کا تجسس پیدا ہو. گھر کی یاد انے پر میں یہ کام اکثر چرچ میں بھی جا کر کرتی رہی ہوں.

اب اگے کا ارادہ یہ ہے کہ، باہر کے ملک سے ڈگری لینے کے بعد….یعنی بیین اقوامی لیول کی تعلیم اور شعور حاصل کرنے کے بعد….میں سوچتی ہوں کے میری صلاحیتوں کا سہی استمعال کسی بیین اقوامی لیول کی آرگنائزیشن میں نوکری کرنے سے ہو گا….آخر کو پاکستانیوں کو بھی تو ورلڈ پیس آرڈر قایم کرنے میں حصّہ ڈالنا ہو گا نہ!

Advertisements