جیون کا رو گ

اس بستی میں جیون کا رو گ بستا ہے
اس بستی کی کئیں صبحیں
جیون کے روگ تلے سورج کی کرنوں کے
کھیل نہ دیکھ سکیں
اور درختوں پرپنچھی صبح کی چہکار سے نا آشنا
اکثر ہی بے آواز تھکی اڑانیں بھرتے
چند دانوں کی تلاش میں ا ڑ نکلتے ہیں

اس بستی میں خوابوں کے رنگوں کا خوف
اندھیر گلیوں میں شام ڈھلتے ہی
اسرافیل کے سور کی طرح پھیل جاتا ہے
ابھی کل شام ہی ان بکھرے رنگوں میں
ایک مردہ نہلایا گیا تھا
..انہی شاموں میں روگ
چھتوں پر ، کسی گہری سوچ میں ڈوبا بھنور سنگ ٹہلتا نظر اتا ہے

اس بستی میں دیوانگی کے مول
سب نے کاٹھ کبار کے گھر چن لئے
اور بوڑھے گئے دنوں کے اس بیوپار کا ذکر اکثر ہی
انگنت صدیوں کے چکر میں بنی ،
انگنت بار سنائی گئی، چند بوڑھی کہانیوں میں کرتے ہیں-

خاک نگر

ارمان خاک نگر کے
بے تاب جسموں میں گھر کیے
مایوس روح کو امر کیے
بنتے ہیں اک جال پرانا
پوچھتے ہیں مجھ سے میری منزل کا ٹھکانہ
عقل ِخام کا روگ پرانا
.امر ہونے کی آس پرانی
یہ آس ،جواکثر بھیس بدلتی ہے
اور بھانت بھانت کے قصّوں کا جال بچھاے
خاموش قدموں پر چلتی آتی ہے میرے پاس
یہ کہنے کہ
اے خاک نگر کی بھٹکی روح
آ  میں تجھے منزل کا پتا دوں
آ میں تجھے امر کر دوں

نسب

نسب کی لال پیلی ڈوریاں
کسی مزار کی جالی پر صدیوں یوں بندھی جاتی ہیں
کہ اب ان جالیوں کے اس پار
قبروں پر سورج کی ایک کرن بھی اتر نہیں پاتی
نسب،جس پر جاری ہے سفید پوش کا کاروبار
نسب، جوہے انکی خستہ حال سندوکچی میں رکھی
تمام ترجمع پونجی
نسب ، جس کی بے زار اور قیمتی عزت پر
مول لگاتے ہیں اسکے نیم مردہ چارا ساز

بت خانہ

ان سسنگلاخ گزر گاہوں میں
جو مسافر بھٹکے نظر آتے ہیں
یہ مسافر کسی گلستان کی تلاش میں نہیں
پانی کے چشموں کے پار ،
کیںٔ پہاڑوں کی اوٹ میں
ایک بت خانہ ہے
اور آے ہیں ہزاروں اس بت خانے میں
اپنے بنجر گوشہء دل کو
امید کی جھولی میں ڈالے
اب تک …..
ہیں کسی خدا کے منتظر
بےکار الفتوں کی زنجیریں انہیں اس طرف کھینچ لائی تھیں
اب وہ بت خانے کے مقفل زنگ زدہ دروازے پر
کیئں صدیوں سےبیٹھے
ہیں کسی سورج کی کرن کے منتظر
بت خانےکی دیواروں پر اندھیرے کے گہرے ہلکے سایوں میں
پھیلی ہیں بےشمار بھٹکتی تصویریں
اورمسافر ان تصویروں کا حساب لینے
وقت کا پہیّہ جام کیے
اب تک ہیں کسی خدا کے منتظر

Garden on the top of hill

Do you see that tree on the top of the hill?
It lives in a garden there, tended by the sun it self
Garden upon which sun sends its last rays
Long after the valley down below is plunged into darkness
I stood in that garden once,
As I stood there catching the last sun rays,
The mellow orange evening fell on the garden too
But the warmness of the sun still lingered
And the night jasmine turned to its old sorcery
Intoxicated under its scent
The snakes were out
To drown themselves under the white shower of jasmine bloom
It was a night of celebration for them
For winter was about to end
As I stood there, the snakes went on to celebrate
Under the fallen white sheet of jasmine buds, they slithered and hissed
And it looked as if the green velvety grass,
Has turned to playing its dancing tricks
But then the dark valley below shivered in cold
and the last remnant of warm sun was shed away
From where I stood in the garden,
the night winds decided to sway the jasmine scent away.

نروان

جو تو نے دریا میں ڈوب کر پار ہونے کو
اپنا اصل جانا
تو اصل کے سراب سے گلے لگنے پر
تیری موت ہوئی
تیرا وجود جو ڈوب کر نروان حاصل کرنے چلا تھا
اب لاش بن کر دریا میں تیرتا ہے
لوگوں نے جو اس لاش کو مٹی میں دبایا
تو تیری قبر کی مٹی اتنی زرخیز بھی نہ تھی
کہ اس پر پھول اگتے