جیون کا رو گ

اس بستی میں جیون کا رو گ بستا ہے
اس بستی کی کئیں صبحیں
جیون کے روگ تلے سورج کی کرنوں کے
کھیل نہ دیکھ سکیں
اور درختوں پرپنچھی صبح کی چہکار سے نا آشنا
اکثر ہی بے آواز تھکی اڑانیں بھرتے
چند دانوں کی تلاش میں ا ڑ نکلتے ہیں

اس بستی میں خوابوں کے رنگوں کا خوف
اندھیر گلیوں میں شام ڈھلتے ہی
اسرافیل کے سور کی طرح پھیل جاتا ہے
ابھی کل شام ہی ان بکھرے رنگوں میں
ایک مردہ نہلایا گیا تھا
..انہی شاموں میں روگ
چھتوں پر ، کسی گہری سوچ میں ڈوبا بھنور سنگ ٹہلتا نظر اتا ہے

اس بستی میں دیوانگی کے مول
سب نے کاٹھ کبار کے گھر چن لئے
اور بوڑھے گئے دنوں کے اس بیوپار کا ذکر اکثر ہی
انگنت صدیوں کے چکر میں بنی ،
انگنت بار سنائی گئی، چند بوڑھی کہانیوں میں کرتے ہیں-

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s