بت خانہ

ان سسنگلاخ گزر گاہوں میں
جو مسافر بھٹکے نظر آتے ہیں
یہ مسافر کسی گلستان کی تلاش میں نہیں
پانی کے چشموں کے پار ،
کیںٔ پہاڑوں کی اوٹ میں
ایک بت خانہ ہے
اور آے ہیں ہزاروں اس بت خانے میں
اپنے بنجر گوشہء دل کو
امید کی جھولی میں ڈالے
اب تک …..
ہیں کسی خدا کے منتظر
بےکار الفتوں کی زنجیریں انہیں اس طرف کھینچ لائی تھیں
اب وہ بت خانے کے مقفل زنگ زدہ دروازے پر
کیئں صدیوں سےبیٹھے
ہیں کسی سورج کی کرن کے منتظر
بت خانےکی دیواروں پر اندھیرے کے گہرے ہلکے سایوں میں
پھیلی ہیں بےشمار بھٹکتی تصویریں
اورمسافر ان تصویروں کا حساب لینے
وقت کا پہیّہ جام کیے
اب تک ہیں کسی خدا کے منتظر

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s